17 اگست 2010 - 19:30

اس سے قبل بھی شاید ایک دو مرتبہ خبر آئی تھی کہ فضل الله مارا گیا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے اور اب دوبارہ خبر آئی ہے کہ وہ ہلاک کردیا گیا ہے لیکن ......

افغان پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک طالبان سوات کا رہنما فضل اللہ کئی ساتھیوں سمیت افغان فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔افغانستان کے شہر اسد آباد میں افغان باڈر فورس کے افسر محمد زمان ماموزئی نے بتایا کہ گزشتہ رات پاکستانی سرحد کے قریب صوبہ نورستان کے ضلع بارگ متل میں افغان فورسز کے ساتھ ایک شدید جھڑپ میں پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کا سربراہ فضل اللہ اور اس کے چھ ساتھی مارے گئے۔واضح رہے کہ اس علاقے میں کئی دن سے افغان فورسز اور جنگجوؤں میں لڑائی جاری تھی۔باجوڑ میں طالبان کے رہنما فقیر محمد نے فضل اللہ کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور کہا کہ وہ نورستان میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم افغان فورسز کے ساتھ لڑائی میں شریک نہیں ۔  .........

ابنا:اس سے قبل  بھی شاید ایک دو مرتبہ خبر آئی تھی کہ فضل الله مارا گیا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے اور اب دوبارہ خبر آئی ہے کہ وہ ہلاک کردیا گیا ہے لیکن چونکہ ان لوگوں کی ایک جان نہیں بلکہ کئی کئی جانیں ہوتی ہیں ««« دہشت گرد جو ہوئے»»» چنانچہ خبر کا اعتبار نہیں؛ حکیم محسود ہی کو لے لیں جس کی ہلاکت کا جشن امریکہ اور اسلام آباد میں منایا گیا مگر بعد میں معلوم ہوا که وه بھی زندہ ہے. بہر حال معلوم نہیں ہے کہ یہ لوگ زندہ ہیں یا مردہ بس ہمیں تو اتنا ہی معلوم ہے کہ ان کی حیات بے گناه انسانوں کی مرگ مفاجات کی علامت ہے؛ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔......../110